Wednesday, December 28, 2011

محبت کا تہوار ( ویلنٹائن ڈے ) منانا




محبت کا تہوار ( ویلنٹائن ڈے ) منانا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سب تعریفات اللہ رب العالمین کےلیے ہیں جوسب کا پرروردگار ہے ، اورہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پردرود وسلام ہوں اوران کی آل اورسب صحابہ کرام پراللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہو۔
اما بعد :
اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمارے لیےاسلام کودین اختیار کیا ہے اوروہ کسی سے بھی اس دین کے علاوہ کوئي اوردین قبول نہيں کرے گا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :
{ اورجوکوئي دین اسلام کے علاوہ کوئي اوردین چاہے گا اس سے اس کا وہ دین قبول نہيں کیا جائےگا اوروہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا } آل عمران ( 85 ) ۔
اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں یہ بتایا ہے کہ ان کی امت میں سے کچھ لوگ ایسےہونگے جواللہ تعالی کے دشمنوں کے بعض شعائر اوردینی علامات وعادات میں ان کی پیروی اوراتباع کرینگے جیسا کہ مندرجہ ذيل حدیث میں اس کا ذکر ملتا ہے :
ابوسعیدخدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بربالشت اورہاتھ برہاتھ پیروی کروگے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے توتم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوگے ، ہم نے کہا اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم : کیا یھودیوں اورعیسائیوں کی ؟ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورکون ؟ !  ) امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لتتبعن سنن من کان قبلکم میں روایت کیا ہے دیکھیں صحیح بخاری ( 8 / 151 ) ۔
اورامام مسلم نے کتاب العلم باب اتباع سنن الیھود والنصاری میں ذکر کیا ہے دیکھیں صحیح مسلم ( 4 / 2054 ) ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوکچھ بتایا اس کا وقوع ہوچکا ہے اور ان آخری ایام میں مسلمان ممالک کے اندریہ پھیل چکا ہے کہ بہت سے مسلمان اللہ تعالی کے دشمنوں کی بہت ساری عادات اورسلوک اوران کی علامات میں دشمنوں کی پیروی واتباع کرنے لگے ہیں اورانہوں نے ان کے دینی شعائر کی تقلید کرنا شروع کردی ہے اوران کےتہوارمیں میں شرکت اورانہيں منانا شروع کردیا ہے ۔
ذرا‏ئع ابلاغ اورمیڈیا کےپھیل جانے سے اس میں اوربھی زيادہ برائي پیدا ہوگئي ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ سب معاشروں میں کفار کی عادات کوبڑے تزک واحتشام سے نشر کرتے ہیں اوراسے اپنے ممالک سے فضائی چینلوں اورانٹرنیٹ کے ذریعہ اسلامی ممالک میں براہ راست موسیقی اورگندی تصاویر اوررقص وسرور کی محافل سمیت نقل کرتے ہیں جس کی بنا پربہت سے مسلمان لوگ بھی اس کے دھوکہ میں آنا شروع ہوچکے ہيں ۔
ان چندآخری برسوں میں ایک اورچیز بہت سے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں کے مابین پھیل چکی ہے جس میں کوئي خیروبھلائي کی چيز نہیں بلکہ وہ عیسائیوں کی تقلید میں یوم محبت کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے اوراسے ویلنٹائن ڈے کا تہوار منانا شروع کردیا ہے ۔
جس کی وجہ سے اہل علم اوردعوت وتبلیغ کرنے والوں پرضروری ہوگيا ہے کہ وہ اس کے بارہ میں لوگوں کواللہ تعالی کی شریعت کا حکم بتائيں اوربیان کریں جس میں اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمان حکمرانوں اورعام مسلمانوں کی خیرخواہی ہے تا کہ مسلمان شخص اپنے معاملات میں واضح دلیل پر ہو تا کہ وہ کسی ایسی چيز میں نہ پڑ جائے جواس کے عقیدہ کوخراب کرکے رکھ دے کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے مسلمان پریہ عقیدہ صحیحہ اورسلیم ایک انعام ہے ۔
اس تہوار اوردن کی اصل کے بارہ میں یہ مختصرسانوٹ پیش کرتے ہیں کہ یہ کب شروع ہوا اوراس کی حقیقت کیا ہے اوراس سے کیا مقصود ہے اورمسلمان شخص کواس کے بارہ میں کیا کرنا واجب ہے ۔
ویلنٹائن ڈے ( یوم محبت ) کا قصہ :
یوم محبت رومن بت پرستوں کے تہواروں میں سے ایک تہوار شمار کیا جاتاہے جب کہ رومیوں کے ہاں بت پرستی سترہ صدیوں سےبھی زيادہ پرمحیط ہے جوکہ محبت کے الہ کے بارہ میں رومی بت پرستی کی تعبیرہے ۔
اس بت پرستی کے تہوار کے بارہ میں کئي قسم کے قصہ رومیوں اوران کے وارث عیسائیوں کے ہاں معروف ہیں ، ان میں سب سے زيادہ مشہور قصہ یہ ہے کہ :
رومیوں کا عقیدہ تھا کہ روم شہرکے مؤسس روملیوس کوایک دن مادہ بھيڑیے نے دودھ پلایا جس کی وجہ سے اسے قوت فکری حلم وبردباری حاصل ہوئی ۔
لھذا رومی لوگ اس حادثہ کی وجہ سے ہربرس فروری کے وسط میں بہت بڑا تہوار منایا کرتے تھے اوراس میں ایک علامت یہ بھی تھی کہ وہ کتا اوربکری ذبح کرتے ، اورمضبوط اورگٹھے ہوئے عضلات والے دونوجوان اپنے جسم پرکتے اوربکری کے خون کا لیپ کرتے اورپھر اس خون کودودھ کے ساتھ دھوتے اوراس کے بعد ایک بہت بڑا قافلہ چلتا جس کےآگے وہ نوجوان ہوتے اوریہ قافلہ گلی کوچوں اورسڑکوں پرچلتا ، ان دونوجوانوں کے ہاتھ میں چمڑے کے دوٹکڑے ہوتے جوبھی انہيں ملتا اسے وہ ٹکڑے مارتے ، اوررومی عورتیں بڑی خوشی سے یہ کوڑے کھاتیں کیونکہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اس سے شفاملتی ہے اوربانجھ پن ختم ہوجاتا ہے ۔
اس تہوار سے سینٹ ویلنٹائن کاتعلق :
سینٹ ویلنٹائن نصرانی کنیسہ کے دوقدیم قربان ہونے والے اشخاص کانام ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ دوشخص تھے ، اورایک قول میں ہے بلکہ اس نام کا ایک ہی شخص تھاجوشہنشاہ کلاڈیس کی تعذیب کی تاب نہ لاتے ہوئے 296میلادی میں ہلاک ہوگیا ، اورجس جگہ یہ ہلاک ہوا اسی جگہ 350میلادی میں بطوریادگارایک کنیسہ تیارکیا گیا ۔
جب رومیوں نے عیسائیت قبول کی تووہ اپنے اس سابقہ تہوار یوم محبت کومناتے رہے لیکن انہوں نے اسے بت پرستی کےمفہوم سے نکال کرمحبت الہی میں تبدیل کرلیا دوسرے مفہوم محبت کے شھداء میں بدل لیا اورانہوں نے اسے اپنے گمان کے مطابق محبت وسلامتی کی دعوت دینے والےسینٹ ویلنٹائن کے نام کردیا جسے وہ اس راستے میں شھید گردانتے ہیں ، اوراسے عاشقوں کی عید اورتہوار کا نام بھی دیا جاتا ہے اورسینٹ ویلنٹائن کوعاشقوں کا شفارشی اوران کا نگران شمار کرتے ہیں ۔
ان کے باطل اعتقادات اوراس دن کی مشہور رسم یہ تھی کہ نوجوان اور شادی کی عمرمیں پہنچنے والی لڑکیوں کے نام کاغذ کےٹکڑے پرلکھ کرایک برتن میں ڈالے جاتے اوراسے ٹیبل پررکھ دیا جاتا اورشادی کی رغبت رکھنے والے نوجوان لڑکوں کودعوت دی جاتی کہ وہ اس میں سے ایک ایک پرچی نکالیں لھذا جس کا نام اس قرعہ میں نکل آتا وہ لڑکا اس لڑکی کی ایک برس تک خدمت کرتا اوروہ ایک دوسرے کے اخلاق کا تجربہ کرتے پھر بعد میں شادی کرلیتے یا پھر آئندہ برس اسی تہوار یوم محبت میں دوبارہ قرعہ نکالتے ۔
دین نصرانی کے عالموں نے اس رسم سے بہت برااثرلیا اوراسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اخلاق خراب کرنے کا سبب قرار دیا لھذا اٹلی جہاں پراسے بہت شہرت حاصل تھی ناجائز قرار دے دیا گيا ، پھر بعد میں اٹھارہ اورانیسویں صدی میں دوبارہ زندہ کیا گیا ، وہ اس طرح کہ کچھ یورپی ممالک میں کچھ بک ڈپوؤں پرایک کتاب ( ویلنٹائن کی کتاب کے نام سے ) کی فروخت شروع ہوئي جس میں عشق ومحبت کے اشعار ہیں ، جسے عاشق قسم کے لوگ اپنی محبوبہ کوخطوط میں لکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، اوراس میں عشق ومحبت کے خطوط لکھنے کے بارہ میں چندایک تجاویز بھی درج ہیں ۔
اس تہوارکا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ : جب رومیوں نے نصرانیت قبول کی اورعیسا‏ئیت کے ظہورکے بعد اس میں داخل ہوئے توتیسری صدی میلادی میں شہنشاہ کلاڈیس دوم نے اپنی فوج کے لوگوں پرشادی کرنے کی پابندی لگادی کیونکہ وہ بیویوں کی وجہ سے جنگوں میں نہيں جاتے تھے تواس نے یہ فیصلہ کیا ۔
لیکن سینٹ ولنٹائن نے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے چوری چھپے فوجیوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا اورجب کلاڈیس کواس کا علم ہوا تواس نے سینٹ ویلنٹائن کوگرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا اوراسے سزائے موت دے دی ، کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران ہی سینٹ ویلنٹائن کوجیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئي اورسب کچھ خفیہ ہوا کیونکہ پادریوں اورراہبوں پرعیسائیوں کےہاں شادی کرنااورمحبت کے تعلقات قائم کرنا حرام ہيں، نصاری کےہاں اس کی سفارش کی گئي کہ نصرانیت پرقائم رہو شہنشاء نے اسے عیسائیت ترک کرکے رومی دین قبول کرنے کا کہا کہ اگر وہ عیسائیت ترک کردے تواسے معاف کردیا جائے گا اوروہ اسے اپنا داماد بنانے کے ساتھ اپنے مصاحبین میں شامل کرے گا ۔
لیکن ویلنٹائن نے اس سے انکار کردیا اورعیسائیت کوترجیح دی اوراسی پرقائم رہنے کا فیصلہ کیا توچودہ فروری 270  میلادی کے دن اورپندرہ فروری کی رات اسے پھانسی دے دی گئي ، تواس دن سے اسے قدیس یعنی پاکباز بشپ کا خطاب دے دیا گیا ۔
کتاب قصۃ الحضارۃ میں ہے کہ :
کنیسہ نے ایک ڈائری ترتیب دے رکھی ہے جس میں ہردن ایک مقدس اورپاکباز شخص کا تہوارمقرر کیا ہے ، اورانگلینڈ میں سینٹ ویلنٹائن کا تہوار موسم سرما کے آخر میں منایا جاتا تھا اورجب یہ دن آتا ہے توان کے کہنے کے مطابق جنگلوں میں پرندے بڑي گرمجوشی کے ساتھ آپس میں شادیاں کرتے ہيں ، اورنوجوان اپنی محبوبہ لڑکیوں کے گھروں کی دہلیزوں پرسرخ گلاب کے پھول رکھتے ہیں ۔ دیکھیں : قصۃ الحضارۃ تالیف ول ڈیورنٹ ( 15 - 23 ) ۔
اورپوپ نےسینٹ ویلنٹائن کی یوم وفات چودہ فروری 270 میلادی کویوم محبت قراردے دیا ، اوریہ پوپ کون ہے ؟ عیسائیوں کے سرداراوربڑے عالم جس کی بات حکم کا درجہ رکھے اسے عیسا‏ئی پوپ کا نام دیتے ہیں ، دیکھیں اس پاپائے اعظم نے کس طرح ان کے دین میں اس تہوار کوپیدا کیا اورمنانے کا حکم دیا ، کیا یہ ہمیں اللہ تعالی کا مندرجہ ذیل فرمان یاد نہیں دلاتا :
{ ان لوگوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کراپنے عالموں اوردرویشوں کورب بنالیا } التوبۃ ( 31 ) ۔
عدی بن حاتم رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آيا تومیری گردن میں صلیب لٹک رہی تھی تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :
اے عدی اس بت کواپنے آپ سے اتاردو ۔
عدی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ سورۃ التوبۃ کی یہ آیت تلاوت فرمارہے تھے :
{ ان لوگوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کراپنے عالموں اوردرویشوں کورب بنالیا}
عدی رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ان کی عبادت تونہیں کرتےتھے لیکن جب وہ اس کےلیے کسی چيز کوحلال کردیتے تووہ اسے حلال سمجھتے اورجب ان پرکوئي چيزحرام کردیتے تووہ اسے حرام کرلیتے تھے ۔ اسے امام ترمذی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
اس تہوار میں ان کے اہم ترین شعاروعلامات :
1 -  خوشی وسرور کا اظہار جس طرح دوسرے اہم ترین تہواروں میں ان کی حالت ہوتی ہے ۔
2 -  سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ ، اور وہ یہ کام بت پرستوں کی حب الہی اورنصاری کے ہاں عشق کی تعبیر میں کرتے ہیں ، اوراسی لیے اس کا نام بھی عاشقوں کا تہوار رکھا گیا ہے ۔
3 -  اس کی خوشی میں کارڈوں کی تقسیم ، اوربعض کارڈوں میں کیوبڈ کی تصویر ہوتی ہے جوایک بچے کی خیالی تصویربنائي گئی ہے اس کے دوپرہیں اوراس نے تیرکمان اٹھارکھا ہے ، جسے رومی بت پرست قوم محبت کا الہ مانتے ہیں ، اللہ تعالی ان کے اس جھوٹ اورشرک سے بلندوبالا ہے ۔
4 -  کارڈوں میں محبت وعشقیہ کلمات کا تبادلہ جواشعاریا نثریا چھوٹے چھوٹے جملوں کی شکل میں ہوتے ہیں ، اوربعض کارڈوں میں گندے قسم کے اقوال اورہنسانے والی تصویریں ہوتی ہيں ، اوراکثر طور پراس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ ولنٹائینی بن جاؤ ، جوکہ بت پرستی کے مفہوم سے منتقل ہوکر نصرانی مفھوم کی تمثیل بنتی ہے ۔
5 -  بہت سے نصرانی علاقوں میں دن کے وقت بھی محفلیں سجائي جاتی ہیں اوررات کوبھی عورتوں اورمردوں کا رقص وسرور ہوتا ہے ، اوربہت سے لوگ پھول ، چاکلیٹ کے پیکٹ وغیرہ بطورتحفہ محبت کرنے والوں اور، شوہروں اوردوست واحباب کوبھیجتے ہيں ۔
اوپرجوکچھ بھی اس تہوار کے بارہ میں قصے بیان ہوئے ہیں انہیں بغور دیکھنے سے مندرجہ ذيل اشیاء واضح ہوتی ہیں :
اول :
یہ تہوار اصلارومی بت پرستوں کا عقیدہ ہے جسے وہ محبت کے الہ سے تعبیر کرتے ہیں اوراللہ تعالی کےعلاوہ اس کی عبادت کرتے ہیں ، لھذا جس نے بھی اس تہوارکومنایا وہ ایک شرکیہ تہوار منارہا اوربتوں کی تعظیم کررہا ہے ۔
اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ یقین جانو جوکوئي بھی اللہ تعالی کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالی نے اس پرجنت حرام کردی ہے ، اوراس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے ، اورگنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئي نہيں ہوگا } المآئدۃ ( 72 ) ۔
دوم :
رومیوں کے ہاں اس تہوار کی ابتداء قصے کہانیوں اورخرافات پرمشتمل ہے جسے عقل ہی تسلیم نہیں کرتی چہ جائیکہ اسے اللہ تعالی اوراس کے رسولوں پرایمان رکھنے والے مسلمان کی عقل تسلیم کرے ۔
توکیا عقل سلیم یہ تسلیم کرتی ہے کہ روم شہرکوآباد کرنے والے مؤسس کوکوئي مادہ بھڑیا دودھ پلائے اوراس سے اسے قوت اورعقلی بردباری حاصل ہو ؟ توجوکچھ اس قصے میں ہے وہ مسلمان شخص کےعقیدہ کے مخالف ہے کیونکہ قوت اورعقلی بردباری وحلم تواللہ خالق سبحانہ وتعالی ہے نہ کہ کسی بھیڑیے کا دودھ !!
اوراسی طرح یہ قصہ کہ ان کے بت ان سے برائي اورمصیبت کودورکرتے ہیں اوران کے جانوروں کوبھیڑیوں سے بچاتے ہیں ۔
سوم :
رومیوں کے ہاں اس تہوار کے بدصورت شعارمیں کتے اوربکری کوذبح کرکے کتے اوربکری کا خون دونوجوان لڑکوں پرلیپ اورپھر اسے دودھ کےساتھ دھونا ۔۔۔۔ الخ یہ ایسا قصہ ہے جس سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہے اوراسے صحیح عقل قبول ہی نہیں کرتی ۔
چہارم :
اس تہوارسے بشپ ویلنٹائن کے مرتبط ہونےمیں کئي ایک مصادرنے شک کا اظہارکیا ہے اوراسے وہ صحیح شمارنہيں کرتے ، لھذا نصاری کے لیے اولی اوربہتریہی تھا کہ وہ اس بت پرستی تہوارکا انکار کرتے جسے بت پرست ہی مناتے ہیں ، توپھر ہم مسلمان کیسے اسے تسلیم کریں اورہمیں توعسیائیوں اوران سے پہلے بت پرستوں کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گيا ہے ۔
پنجم :
کیتھولک فرقہ کے عیسا‏ئی دینی لوگوں نے اس تہوار کواٹلی میں بالکل منانے پرپاپندی لگا دی ہے کیونکہ اس میں گندے اخلاق کی اشاعت اورنوجوان لڑکے اورلڑکیوں کی عقلوں پربرا اثرپڑتا ہے ، توپھرمسلمانوں کے لیے بالاولی اسے اپنے آپ سے دورہٹانا ہوگا اوراس سے بچنے کے ساتھ ساتھ انہيں اس سلسلہ میں امربالمعروف اورنہی عن المنکر کا بھی کام کرنا ہوگا ۔
اورکوئي کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے : ہم مسلمان اس تہوارکوکیوں نہيں مناسکتے ؟ !
اس کا جواب کئي ایک وجوھات میں دیا جاسکتا ہے :
پہلی وجہ : دین اسلام میں عیدیں اورتہوار محدود اورثابت شدہ ہیں ان سے زيادہ اوراس میں کمی نہيں کی جاسکتی ، اوراسی طرح یہ ہماری عبادات کی سختی بھی ہے یعنی یہ توقیفی ہے ( اورجس میں کمی وزيادتی نہيں ہوسکتی اوراسی طرح عمل کرنا ہوگا جس طرح ثابت ہے ) اسے ہمارے لیے اللہ تعالی اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہے ۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
( عیدیں اورتہوار شرع اورمناھج اورمناسک میں سے ہیں جن کے بارہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ ہم نے ہرایک کے لیے طریقہ اورشریعت مقرر کی ہے }
اورایک دوسرے مقام پراس طرح فرمایا :
{ ہرقوم کے لیے ہم نے ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس پروہ چلنے والے ہيں }
مثلا قبلہ ، نماز ، روزے  ، لھذا ان کا عید اورباقی مناھج میں شریک ہونے میں کوئي فرق نہیں ، اس لیے کہ سارے تہوار میں موافقت کفرمیں موافقت ہے ، اوراس کے بعض فروعات میں موافقت کفرکی بعض شاخوں میں موافقت ہے ، بلکہ عیدیں اورتہوار ہی ایسی چيزہیں جن سے شریعتوں کی تمیز ہوتی ہے اورپہچانی جاتی ہیں اورشعائر سے بھی زيادہ ظاہر ہوتے ہیں ۔
لھذا ان تہواروں میں موافقت کرنا کفرکے خاص طریقے اورشعار کی موافقت ہے ، اوراس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ اس میں موافقت کرنے سے پوری شروط کے ساتھ کفرپر جاکرختم ہوسکتا ہے ، اوراس کی ابتداء میں کم از کم حالت یہ ہے کہ یہ معصیت وگناہ ہوگی ، اوراس کی جانب ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں اشارہ کیا ہے :
( یقینا ہر قوم کےلیے ایک عید اورتہوار ہے اوریہ ہماری عیدہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر (952 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 892 ) ۔ دیکھیں : الاقتضاء ( 11 / 471 - 472 ) ۔
اوراس لیے کہ یوم محبت کا تعلق رومی دور سے متعلق ہے نہ کہ اسلامی دور سے تواس کا معنی یہ ہوا کہ یہ عیسائیوں کی خصوصیات میں سے ہے نہ کہ مسلمانوں کے ، بلکہ اسلام اورمسلمانوں کا اس میں کوئي حصہ اورتعلق بھی نہيں ہے ، لھذا جب ہرقوم کےلیے عیداورتہوار ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا : ( یقینا ہرقوم کے لیے عید ہے ) اسے بخاری اورمسلم نے روایت کیا ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہرقوم کواس کے خصوصی تہوارکے ساتھ واجب کرتا ہے ، لھذا جب عیسائیوں کی علیحدہ اورخاص عید ہے اوریھودیوں کی خاص عید توجس طرح مسلمان ان کی شریعت میں شریک نہيں اسی طرح ان کی عید اورتہوار میں بھی شریک نہيں ہوسکتے اورنہ ہی ان کے قبلہ میں ۔
دوسری وجہ :
یوم محبت کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اورپھر اہل کتاب عیسائيوں کے ساتھ مشابھت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید کی ہے اوریہ تہوار ان کے دین میں نہيں ، اورجب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چيزمیں مشابھت سے ممانعت ہےجوہمارے دین اسلام میں نہیں بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں ہے ، توپھرایسی چيز جوانہوں نے ایجاد کرلی اوربت پرستوں کی تقلید کرنے لگے اس میں مشابھت اختیار کرنا کیسا ہوگا !!
کفار چاہے وہ بت پرست ہوں یا اہل کتاب ان سے عمومی مشابھت اختیارکرنا حرام ہے ، چاہے وہ مشابھت ان کی عبادات میں ہو  اوریہ بھی زيادہ خطرناک ہے  یا پھران کی عادات ورسم ورواج میں ، اس کی حرمت پرکتاب وسنت اوراجماع دلالت کرتا ہے :
1 -  قرآن مجید سے کفارکی مشابھت کی حرمت کے دلائل :
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اورتم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اوراختلاف کیا ، انہیں لوگوں کےلیے بہت بڑا عذاب ہوگا } آل عمران ( 105 ) ۔
2 -  اورسنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( جس نے بھی کسی قوم سے مشابھت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے ) مسند احمد ( 2 / 50 ) ، سنن ابوداود حدیث نمبر ( 4021 ) ۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
( اس حدیث کی کم از کم حالت ان سے مشابھت کرنے کی تحریم کا تقاضا کرتی ہے ، اگرچہ حدیث کا ظاہرمشابھت اختیار کرنے والے کےکفرکا متقاضی ہے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان ہے : { اورجوبھی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے یقینا وہ انہی میں سے ہے }  الاقتضاء ( 1 / 314 ) ۔
3 -  اوررہا اجماع تواس میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یہ نقل کیا ہے کہ کفارسےان کی عیدوں اورتہواروں میں مشابھت اختیارکرنے کی حرمت پرصحابہ کرام کے وقت سے لیکر اجماع ہے ، جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس پرعلماء کرام کا اجماع نقل کیا ہے ۔ دیکھیں : الاقتضاء  ( 1 / 454 ) اوراحکام اھل الذمۃ ( 2 / 722- 725 ) ۔
اوراللہ سبحانہ وتعالی نے کفارکی تقلیدکرنے سے منع فرمایا ہے اورتقلید کرنے والے پرناراضگي کا اظہار کیا اوربہت ساری آيات میں کئي ایک مواقع پر اورمختلف اسلوب میں اس سے بچنے کا کہا ہے ، اورخاص کرکفارکی تقلید سے تومنع کیا ہے ، کبھی ان کی پیروی واتباع اوراطاعت سے روک کر ، اورکبھی ان سے ڈرا کر ، اورکبھی ان کے مکروفریب سے دھوکہ نہ کھانے کا کہہ کر، اوران کی آراء اورخیالات کے پیچھے نہ چلنے کا کہہ کراور کبھی یہ کہا کہ ان کے اعمال اوراخلاق اورسلوک سے متاثرنہ ہوں ۔
اوربعض اوقات ان کی غلط خصلتیں ذکرکرکے جن سے مومن نفرت کرتے ہیں اوران کی تقلید کرنے سے بھی نفرت کرتے ہیں ، اورقرآن مجید میں اکثر طور پر یھودیوں اورعیسائیوں سے بچنے کا کہا گيا ہے ، اورپھر عمومی طور پراہل کتاب اورمشرکوں سے ، اوراللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار کی تقلید اوران کی اطاعت کرنے سے انسان مرتد ہوجاتا ہے ، اوراللہ تعالی نے ان کی اطاعت اوران کی خواہشات کے پیچھے چلنے اوربری خصلتیں اپنانے سے منع فرمایا ہے ۔
اوراسی طرح تقلید سے رکنا توشریعت کے مقاصد میں شامل ہے ، جبکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ھدایت اوردین حق کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا تا کہ اسے سب دینوں پرغالب کردے ، اوراللہ سبحانہ وتعالی نے لوگوں کے لیے شریعت کومکمل کردیا ہے :
فرمان باری تعالی ہے :
{ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کومکمل کردیا ہے اورتم پر اپنا انعام بھرپور کردیا ہے اورتمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا ہوں } المآئدۃ ( 3 ) ۔
اوراس شریعت کوہرحالت اورہرزمانے اورسب لوگوں کے لیے صالح بنایا لھذا کفارسے کچھ حاصل کرنے اوران کی تقلید کی کوئي ضرورت نہيں رہتی ۔
 اورپھرتقلید مسلمان کی شخصیت میں خلل کا باعث بنتی ہے ، شعورمیں نقص اورکمزوری اورچھوٹا پن ، شکست خوردہ ذھن پیدا ہوتا اورپھر اللہ تعالی کے منھج اورطریقے اوراس کی شریعت سے کنارہ کشی ہے ، تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کفارسے دوستی لگانا اورانہیں پسند کرنا اوران کی تقلید کرنا ان سے اوران کی ثقافت وتھذیب سے محبت ، اوران پرمطلقا بھروسہ  اوران کے ساتھ دوستی اوراسلام اوراہل اسلام سے ناپسندیدگي ، اوردین اسلام اوراس کی ثقافت اورقدروقیمت اوراس سے جہالت ان سب  کا سبب بنتا ہے ۔
تیسری وجہ :
اس دورمیں یوم محبت منانے کا مقصد لوگوں کے مابین محبت کی اشاعت ہے چاہے وہ مومن ہوں یا کافر ، حالانکہ اس میں کوئي شک وشبہ نہیں کہ کفارسے محبت ومودت اوردوستی کرنا حرام ہے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اللہ تعالی اورقیامت کے دن پرایمان رکھنے والوں کوآپ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں سے محبت کرتے ہوئے ہرگزنہیں پائيں گے ، اگرچہ وہ کافر ان کے باپ ہوں یا بیٹے یاان کے بھائي یاان کے کنبے قبیلےکے عزيز ہی کیوں نہ ہوں  } المجادلۃ ( 22 ) ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :
( اللہ سبحانہ وتعالی نے اس آيت میں یہ خبردی ہے کہ کوئي بھی مومن ایسا نہيں پایاجاتا جوکافرسے محبت کرتا ہو لھذا جومومن بھی کافر سے محبت کرتا اوردوستی لگاتا ہے وہ مومن نہيں ، اورظاہری مشابھت بھی کفارسے محبت کی غماز ہے لھذا یہ بھی حرام ہوگی ) دیکھیں : الاقتضاء ( 1 / 490 ) ۔
چوتھی وجہ :
جب سے یہ تہوار عیسائیوں نے شروع کیا ہے اس میں مقصود محبت زوجیت کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے عشق اوردل کوعذاب میں ڈالنے والی محبت مراد ہے ، جس کےنتیجہ میں زنا اورفحاشی پھیلے اورعام ہو ، اوراسی لیے کئي اوقات میں نصاری کے دینی لوگوں نے اس کے خلاف آوازاٹھاتے ہوئے اس کےخلاف کام کیا اوراسے باطل قراردیا اوراسے ختم کیا لیکن پھردوبارہ اسے زندہ کردیا گیا ۔
اوراسے منانے والے بھی اکثرنوجوان ہوتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی خواشات کی تکمیل ہوتی ہے ، اگراس میں کفار کی تقلید اورمشابھت کونہ بھی دیکھا جائے حالانکہ یہ حرام ہے لیکن کچھ دیر کےلیے ہم اس سے صرف نظر کرتے ہيں آپ میرے ساتھ اس مصیبت کودیکھیں کہ اس کی وجہ سے وہ لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتےہوئے زنا وغیرہ میں پڑتے ہیں جوکہ صرف اورصرف عیسائیوں سے مشابھت کے طریقہ سے ہوتا ہے ، اوریہ ان کی عبادات میں سے ہے جس کے بارہ میں خدشہ ہے کہ اس میں ان کی مشابھت کرنا کفرہوسکتا ہے ۔
اورہوسکتا ہے کہ بعض لوگ سوال کرتے ہوئے یہ کہيں کہ : تم تواس طرح ہمیں محبت سے محروم کرنا چاہتے ہو ، حالانکہ ہم تو اس دن اورتہوار میں اپنے شعور اورخیالات کی کوعملی جامہ پہناتے ہوئے اس کی تعبیرکرتے ہیں ، تواس میں ممانعت کیا ہے ؟
اس کے جواب میں ہم یہ کہيں گے :
اول : اس دن کے ظاہری نام اوراوراس کے پیچھے جوکچھ ان کا حقیقی مقصد ہے اورجووہ چاہتے ہیں اس میں خلط ملط کرنا غلط ہے ، لھذا اس دن میں جومحبت مقصود ہے وہ عشق معشوقی اورجنونی محبت اورچوری چھپے لڑکے لڑکیوں کا آپس میں ایک دوسرے سے دوستی لگانا اوریار بنانا ہے ، اوراس دن کے بارہ میں معروف ہے کہ یہ تہوار اوباشی اورفحاشی اوران کے ہاں بلاقیود یاحدود جنسی تعلقات کا تہوار ہے ۔۔۔
اوروہ لوگ خاوند اوربیوی اوربیوی اوراس کے خاوند کے مابین پاکيزہ اورشفاف محبت کی بات نہیں کرتے یا پھر کم ازکم وہ خاوند اوربیوی کے مابین شرعی محبت اورعاشق ومعشوق اورچوری چھپے دوستیاں لگانے والوں کی حرام محبت کے مابین کسی قسم کا کوئي فرق نہيں کرتے ، لھذا یہ تہوار ان کے ہاں ساری محبت کی تعبیر کا وسیلہ ہے ۔
دوم : شعور اورخیالات کی تعبیرمسلمان کے لیے یہ جائز نہيں کرتی کہ وہ اس کےلیے اپنی جانب سے ہی کوئي ایک دن مخصوص کرتا ہواایجاد کرلے جس کی وہ تعظیم کرنا شروع کردے اوراسے عید اورتہوار کا نام دے اوراسے عید کی طرح بناڈالے ، توپھر وہ تہوار اورعید جوکفار کی ہو اس کے بارہ میں کیا خیال ہے کہ وہ جائزہوسکتا ہے ؟
لھذا دین اسلام میں خاوند اپنی بیوی سے اوربیوی اپنے خاوند سے توسارا سال ہی محبت کرتے ہیں اوروہ اس محبت کی تعبیر بھی ایک دوسرے کوھدیہ اورتحفہ تحائف دے کراوراشعار اورنثر اورخط وکتاب وغیرہ میں کرتے ہیں جوکہ سارا سال ہی ہوتا رہتا ہے نہ کہ سال بھر میں کسی ایک دن میں ۔
سوم : کوئي ایسا دین نہیں جواپنے پیروکاروں کواس طرح آپس میں محبت وبھائي چارہ قائم کرنے پرابھارتا ہوجس طرح دین اسلام ابھارتا ہے کہ آپس میں محبت وبھائي چارہ اورالفت قائم کی جائے ، اوردین اسلام میں یہ ہروقت اورہرلحظہ میں ہے نہ کہ کسی ایک معین دن میں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :
( جب کوئي شخص اپنے کسی بھائي سے محبت کرے تواسے چاہیے کہ وہ اسے بتائے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں  ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 5124 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2329 ) یہ حدیث صحیح ہے ۔
اورایک دوسری حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں نہيں جاسکتے جب تک تم مومن نہ بن جاؤ اورتم اس وقت تک مومن ہی نہیں ہوسکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو ، کیا میں تمہیں اس چيز کا نہ بتاؤں جب تم اس پرعمل کرو توآپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کوپھیلاؤ  ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 54 ) ۔
چہارم : بے شک اسلام میں محبت توایک صورت یعنی آدمی اورعورت کے مابین محبت میں ہی منحصرہونے کی بجائے عام اوراشمل ہے زيادہ بہتر ہے وہ اس طرح کہ دین اسلام میں اللہ تعالی سے محبت اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ، صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنا ، اورخیروبھلائي کے کام کرنے والے لوگوں سے محبت کرنا اوراصلاح اوردین سے محبت کرنے والوں اوردین کی مدد کرنے والوں سے محبت کرنا ، اوراللہ تعالی کے راستے میں شھادت پانے سے محبت کرنا ، اوراسی طرح بہت ساری اوربھی محبتیں ہیں جواسلام ہمیں بتلاتا ہے ، لھذا جب محبت کے اس وسعی معنی کوصرف محبت کی اس نوع اورقسم میں ہی منحصرکردیا جائے توپھر بہت ہی خطرناک بات ہے غلط ہے ۔
پنجم : بے شک جولوگ یہ گمان اورخیال رکھتے ہيں کہ شادی سے قبل محبت کرنا شادی کے لیے مفیداوربہترنتائج کا باعث ہے اوراس سے اچھے اوربہتر تعلقات قائم ہوتےہیں توان کا یہ خیال اورگمان تباہ کن اورخسارے والا ہے ، جیسا کہ تجربات وواقعات اورسروے سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے ،لھذا قاہرہ یونیورسٹی نے محبت کی شادی ، اورتقلیدی شادی کے بارہ میں جو ریسرچ کی ہے اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ :
وہ شادی جومحبت کی شادی یا محبت ہونے کے بعد شادی کی جاتی ہے اس میں 88 ٪ اٹھاسی فیصد شادیاں ناکامی کا شکار ہوتی ہیں یعنی اس میں کامیابی کا تناسب صرف 12 ٪ بارہ فیصد سے زيادہ نہيں ، اورتقلیدی شادیاں یعنی جومحبت کی شادی نہيں ہوتی بلکہ رواج کے مطابق ہوتی ہے اس میں کامیابی کا تناسب 70 ٪ سترفیصد ہے ۔
یعنی دوسری عبارت میں کہ جسے وہ تقلید شادی کانام دیتے ہیں اس میں کامیابی کا تناسب محبت کی شادی کے تناسب سے چھ گنازيادہ کامیاب ہے ۔دیکھیں : رسالۃ الی مؤمنۃ صفحہ نمبر ( 255 ) ۔
اورجب ہم یورپی معاشرے کے حالات دیکھتے ہیں جویوم محبت بھی مناتے اوراس کی ترویج کا بھی اہتمام کرتے ہیں توہم یہ پوچھتے ہیں کہ : کیا ان کے ہاں اس تہوار کومنانے سے ان کے ازدواجی تعلقات میں میلان پیدا ہوا ہے اورخاوند بیوی کے مابین اس کا کیا اثر ہے ؟ اورکیا ان میں اس کا کوئي مثبت اثربھی ہوا ہے ؟
ان کے سروے اورریسرچ میں مندرجہ ذيل نتائج سامنے آئے ہیں :
1 -  1470ھجری الموافق 1987میلادی سال میں امریکی ریسرچ کے مطابق 79 ٪ مرد عورتوں کوذدکوب کرتےہیں ، اورخاص کرجب وہ شادی شدہ ہوں ۔۔۔ ! دیکھیں جریدۃ القبس  ( 15 / 2 / 1988 ) ۔
2 -  نفسیاتی صحت کے امریکی ادارے کے سروے میں ہے کہ :
17 ٪ عورتیں ایسی تھیں جوابتدائي طبی امداد لینے آئيں جنہیں ان کے خاوندوں یاپھر دوستوں نے زدکوب کیا تھا ۔
83 ٪ عورتیں ایسی تھیں جوکم ازکم ایک بارپہلے ہسپتال میں زخموں کا علاج معالجہ کروانے کے لیے داخل ہوئيں ، وہ زدکوب کیے جانے کے نتیجہ میں داخل ہوئيں ، اس ریسرچ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ بہت ساری عورتیں ایسی ہیں جواپنے زخموں کا علاج کروانے ہاسپٹلوں میں نہيں جاتیں ، بلکہ اپنے گھروں میں ہی مرہی پٹی کرلیتی ہیں ۔
3 -  امریکی تحقیقی کمیٹی  F.P.T کا کہنا ہے کہ : امریکہ میں ایسی بیوی بھی موجود ہے جسے اس کا خاوند ہر اٹھارہ سیکنڈ میں زدکوب کرتا ہے ۔
4 -  امریکی ٹائم میگزین نے نشر کیا ہے کہ چھ ملین زدکوب کی جانے والی بیویوں میں سے چارہزار ایسی ہیں جوزدکوب کیے جانے کے نتیجہ میں ہلاک ہوچکی ہیں !!!
5 -  جرمنی کے سروے کے مطابق یہ ہے کہ : کم ازکم ایک لاکھ عورتیں ایسی ہیں جوسالانہ جسمانی یا نفسیانی زيادتی کا شکارہوتی ہیں جوان کے خاوند یا پھران کے ساتھ رہنے والے مرد کرتے ہیں ، لیکن احتمال یہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ کرایک ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔
6 -  اورفرانس میں تقریبا دوملین عورتیں مارپیٹ کا شکار ہوتی ہیں ۔
7 -  اوربرطانیا میں ایک سروے کے مطابق جس میں سات ہزار عورتیں شریک ہوئي ان میں سے28 ٪ فیصد عورتوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاوندوں اوردوستوں کی مارپیٹ کا شکارہوتی ہیں ۔
توان نتائج کے بعد ہم یہ کس طرح مانیں اورتصدیق کریں کہ محبت کا تہوار خاوند اوربیوی کے لیے مفید وفائدہ مند ہے ، اورحقیقت تویہ ہے کہ یہ تہوار تومزید فسق وفجور اورحرام تعلقات اورذلت کی دعوت دیتا ہے ۔
اوراپنی بیوی سے سچی اورحقیقی محبت کرنے والے خاوند کواس کی کوئي ضرورت نہیں کہ اسے اس تہوار کی محبت کی یاد دلائي جائے کیونکہ وہ توہروقت اورہرلحظہ اپنی بیوی سے محبت کی تعبیر میں مصروف رہتا ہے ۔
مسلمان کا یوم محبت کے بارہ میں موقف :
 اوپرجوکچھ بیان ہوچکا ہے وہ اس تہوار کےبارہ میں مسلمان شخص کا مندرجہ ذيل امور میں موقف بیان کرتا ہے :
اول :
اس تہوارکا نہ منانا یا پھر اس تہوارکومنانے والوں کے ساتھ ان کی محفلوں میں شرکت نہ کرنا ، یا ان کے ساتھ حاضرہونا کیونکہ کفارکے تہوار منانے کی حرمت کے دلائل اوپربیان کیے جاچکے ہیں ۔
حافظ ذھبی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : ( لھذا جب یھودیوں کی خاص عید ہے اورعیسائيوں کی اپنی خاص عید توپھر جس طرح ان کی شریعت اورقبلہ میں مسلمان شخص شریک نہيں اسی طرح ان کے تہواروں میں بھی شریک نہيں ہوسکتا ) اھـ ذلیل شخص کا اہل خمیس کی مشابھت کرنا : دیکھیں مجلۃ الحمکۃ ( 3 / 193 ) ۔
اورجب اہل سنت اورسلف صالحین کے اعتقاد کے اصول میں الولاء والبراء شامل ہے توپھر اس اصل اورقاعدہ کے تطبیق بھی ہرلاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے شخص کے لیے ضروری ہے ، لھذا مومن شخص مومن اورمسلمان سے ہی محبت کرے گا اورکافروں سےبغض اوردشمنی رکھے گا اوران کی مخالفت کرے گا ۔
اوریہ علم میں ہونا چاہیے کہ اس میں ایسی مصلحتیں پنہاں ہیں جوشماربھی نہيں ہوسکتیں ، جیسا کہ ان سے مشابھت اختیارکرنے میں فساد بھی بہت زيادہ ہے اسی طرح ان کی مخالفت میں فائدہ بھی بہت ہے ، اوراس پراضافہ یہ کہ مسلمانوں کا ان سے مشابھت کرنے میں کفارکے سینے کھلتے ہیں اورانہيں خوشی وسرورحاصل ہوتا ہے ، اورمسلمانوں کوکفار سےمحبت قلبی تک لے جاتی ہے ۔
اورجومسلمان لڑکیاں بھی ان کے اس تہوار کومناتی ہيں اوروہ دیکھتی ہيں کہ اسے مارگریٹ تھیچر اورھیلری کلنٹن وغیرہ بھی مناتی ہيں ۔۔۔ تواس میں کوئي شک نہيں کہ وہ اس سے اپنے انتباہ کے برعکس چلتی ہے اوراپنے مسلک کوبھی چھوڑ رہی ہيں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا توفرمان ہے :
{ اے ایمان والو ! تم یھود ونصاری کودوست نہ بناؤ یہ توآپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جوبھی ان میں سے کسی ایک سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، یقینا اللہ تعالی ظالموں کوہرگزھدایت نہیں دکھاتا } المآئدۃ ( 51 ) ۔
اوران کی تعداد میں اضافہ کرنا اوران کے دین کی مدد کرنا اوراس کی پیروی کرنا ان سے پوری اورمکمل مشابھت ہی ہے ، اورپھریہ کس طرح اس مسلمان شخص کے شایان شان ہے جونماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھے :
{ ہمیں سیدھی اورسچی راہ دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پرتونے انعام کیا ، ان کی راہ نہيں جن پرغضب کیا گيا اورنہ ان کی راہ گمراہ ہوئے  } الفاتحۃ (6- 7)
کہ اللہ تعالی سے توصراط مستقیم اورمومنوں کی راہ کی ھدایت طلب کرے اورجن پرغضب کیا گيا اورگمراہ لوگوں کی راستے سے بچنے کاسوال کرے اورپھر خود ہی اپنی رضامندی سے ان کے راستے پربھی چلنا شروع ہوجائے ۔
سروے سے بات ثابت ہے کہ کرسمس کےتہوارکے بعد یوم محبت دوسرے نمبر پرآتا ہے ، لھذا جب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یوم محبت ( ولنٹائن ڈے ) عیسائیوں کے تہواروں میں سے ایک تہوار ہے اورکرسمس کےبعددوسرے درجہ پریوم محبت کودرجہ حاصل ہے تومسلمانوں کے اسے منانے میں شریک ہونا جائزنہيں کیونکہ ہمیں توان کے دین اوران کی عادات میں ان کی مخالفت کرنے کاحکم دیا گيا ہے ، اوراسی طرح ان کی دوسری خصوصیات میں بھی ہمیں ان کی مخالفت کرنے کا حکم ہے جیسا کہ قرآن مجیداورسنت نبویہ اوراجماع سے بھی یہ ثابت ہے کہ ان کی مخالفت کی جائے ۔
دوم : اس تہوار کے منانے میں کفارکی معاونت نہ کرنا ، کیونکہ یہ تہوار کفرکے شعارمیں سے ایک شعار ہے ، لھذا اس میں ان کی معاونت کرنا اوراسے تسلیم کرنے میں کفرکوبلند کرنے اورپھیلانے اوراس کے اقرار میں معاونت ہوتی ہے  ، اورمسلمان شخص کواس کا دین کفر کی اعانت اوراس کے اقرار اوراسے بلند اورظاہر کرنے اوراس میں مدد وتعاون کرنے سے منع کرتا ہے ۔
اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
( مسلمانوں کے لیے حلال نہيں کہ وہ کفارسے ان کے خصوصی تہواروں میں ان کی لباس ، کھانے پینے ، اورغسل کرنے اورآگ جلانے اوراپنی کوئي عادت اورکام وغیرہ اورعبادت سے چھٹی کرنے میں ان کفار کی مشابھت کریں ۔۔۔ مجمل طورپر یہ کہ : ان کے لیے یہ جائزنہيں کہ وہ کفار کے کسی خاص تہوار کوان کے کسی شعار کے ساتھ خصوصیت دیں ، بلکہ ان کے تہوار کا دن مسلمانوں کے ہاں باقی سارے عام دنوں جیسا ہی ہونا چاہیے  ) دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 25 / 329 ) ۔
سوم : مسلمانوں میں سے جوبھی اس تہوار کومناتا ہے اس کی معاونت نہ کی جائے بلکہ اسے اس سے روکنا واجب ہے ، کیونکہ مسلمانوں کا کفارکے تہوارمناناایک منکر اوربرائي ہے جسے روکناواجب ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
( اورجس طرح ہم ان کے تہواروں میں کفار کی مشابھت نہیں کرتے ، تواس طرح مسلمان کی اس سلسلے میں مدد واعانت بھی نہیں کی جائے گی بلکہ اسے اس سے روکا جائے گا ) دیکھیں : الاقتضاء ( 2 / 519 - 520 ) ۔
توشیخ الاسلام کے فیصلہ کی بنا پرمسلمان تاجروں کےلیے جائزنہيں کہ وہ یوم محبت کےتحفہ تحائف کی تجارت کریں چاہے وہ کوئي معین قسم کا لباس ہویا سرخ گلاب کے پھول وغیرہ ، اوراسی طرح اگرکسی شخص کویوم محبت میں کوئي تحفہ دیا جائے اس تحفہ کو قبول کرنا بھی حلال نہیں ہے کیونکہ اسے قبول کرنے میں اس تہوارکا اقرار اوراسے صحیح تسلیم کرنا ہوگا ۔
ایک مبلغ عالم دین کا کہنا ہے کہ : ہم ایک مسلمان ملک میں ایک پھول فروش کی دوکان میں گئے توہم یہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ اس نے اس تہوار کی مکمل تیاری کررکھی تھی ، دوکان میں داخل ہونے سے لیکر سارے فرش پرسرخ رنگ کا قالین اوراسی طرح سرخ رنگ کی تختیاں اورسارا منظر ہی سرخ کیا ہوا تھا ، ہم نے اس دوکان کے ایک ملازم سے ملاقات کی اوراس سے ہم نے اس تہوار میں ان کی تیاری کے بارہ میں سوال کیا تواس کا جواب تھا :
یہ تیاری توبہت پہلے سے ہی شروع کی جاچکی تھی اوراس کی مانگ بھی بہت زيادہ تھی ، پھراس ملازم نے ہمیں یہ بتایا کہ اسے تواس سے بہت زيادہ تعجب ہورہا ہے ، اوراس نے یہ بتا کرہمیں حیران کردیا کہ وہ کچھ عرصہ قبل ہی مسلمان ہوا ہےاوراس نے نصرانیت ترک کردی ہے اوراسلام قبول کرنے سے قبل ہی اسے علم تھا کہ ان کے دین میں ہی ہے توپھر خریدارمسلمانوں میں سے کس طرح ہوسکتے ہیں نہ کہ عیسائیوں میں سے ؟ !
اوردوسری دوکانوں میں توپھول ختم ہوچکے تھے جوبہت زيادہ مہنگے فروخت ہوئے ، اورجب ایک مسلمان مبلغہ عورت ایک ہال میں جمع ہونے والی طالبات کودرس دینے گئی تواسے بہت زيادہ خفت اٹھانی پڑی کیونکہ حاضر ہونے والی طالبات کوسرخ ماحول میں پایا ، اس لڑکی کے پاس سرخ پھول ہیں ، اوردوسری نے سرخ رنگ کی شال اوڑھ رکھی ہے یا سرخ رومال پکڑا ہوا ہے اورکسی کے ہاتھ میں سرخ رنگ کابیگ ہے اورکسی نے سرخ جرابیں پہن رکھی ہيں اوراس طرح ہرایک نے ۔۔ ہائے مسلمانوں کی بیٹیوں پرافسوس !!
 اس تہوار ( ولنٹائن ڈے ) کے موقع پرمسلمانوں میں دیکھے جانے والے کام :
1 -  ہرطالبہ اپنی پسندیدہ سہیلی کے ساتھ متفق ہوتی ہے کہ وہ اپنی کلائي پرسرخ رنگ کا ربن باندھے گی ۔
2 -  سرخ رنگ کا کوئي بھی لباس زيب تن کیا جاتا ہے ( جوتے ، بال ، بلاوزر ، کلپ وغیرہ سب سرخ رنگ کا ہوتا ہے ) پچھلے برس تواس کا انتہائي زيادہ اہتمام کیا گیا اوربہت زيادہ واضح تھا اوراس درجہ تک کہ ہم کلاس روم میں داخل ہوتے تواکثر طالبات کواسی سرخ لباس میں دیکھا گویا کہ یہ سکول یونیفارم ہو ۔
3 -  سرخ رنگ کے غبارے جن پر ( I Love you ) میں تم سے پیارکرتا ہوں ) ہوں لکھا ہوتا ہے ، عادتا طالبات پڑھائي کے آخری دن میدان میں استانیوں کی نظروں سے دور ہوکر نکالتی ہیں ۔
4 -  ہاتھوں پرنام اوردلوں کے نشانات اورناموں کے پہلے حروف نقش کروائے جاتے ہیں ۔
5 -  اس دن میں بہت زيادہ سرخ گلاب کے پھول بکھیرے جاتے ہیں ۔
چودہ فروری کوطالبات کا ایک گروپ میٹنگ ہال میں داخل ہوا ان میں سے ہرایک لڑکی نے سرخ لباس زیب تن کیا ہواتھا اوراپنے چہرے پرسرخ دل کے نشانات بنوارکھے تھے اوراپنے چہرے پرخوب میک اپ یعنی بناؤ سنگھار بھی کررکھا تھا ،وہ سب ایک دوسرے کوبڑی گرمجوشی سے چومتے ہوئے آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرنے لگيں ، یہ ہے وہ کچھ جوایک اسلامی ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ہوا بلکہ اسلامی یونیورسٹی میں اورخاص کرسینٹ ویلنٹائن کے تہوارکے موقع پر ۔ !!!
اوراس دن تومڈل سکولوں میں بھی حیران کن معاملہ ہوا وہ اس طرح کہ طالبات اعلی قسم کے سرخ گلاب کے پھول لائيں ، اوراپنے چہروں کوسرخ رنگ کے بناؤ سنگھارمیں ڈبورکھا تھا اورسرخ بالیاں وغیرہ پہنے ہوئے ایک دوسری سے تحفوں اوربڑی گرمجوشی سے محبت بھرے الفاظ والی عبارتوں کا تبادلہ کرتے ہوئے یہ تہوارمنانے لگيں ۔
عربی انسیکلوپیڈیا ( الموسوعۃ العربیۃ ) اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ : ویلنٹائن ڈے ( یعنی یوم محبت ) کے کچھ خاص دینی طریقے ہیں جن میں کارڈوں پر عشقیہ اورمحبت کے اشعارچھاپنا اوراسے عزيزواقارب اوراپنے محبوب لوگوں میں تقسیم کرنا شامل ہے ، اوربعض لوگ توان کارڈوں پرمضحکہ خيزتصاویر بناتے ہیں، اوراکثرکارڈوں میں یہ لکھا جاتا ہے ( ویلنٹائنی ہو جاؤ ) ۔
اوراکثرطورپردن کے وقت ان کے طریقہ پرہی رقص وسرور کی محفلیں سجائي جاتی ہیں ، اوراب تک یورپی لوگ یہ تہوارمناتے چلے آرہے ہیں ، اس دن ( یعنی چودہ فروری کے دن ) برطانیہ میں بائیس ملین پاؤنڈ کے پھول فروخت ہوئے ، اورچاکلیٹ کی فروخت بھی بہت زيادہ ہوتی ہے ، اوراسی مناسبت سے انٹرٹیٹ پرکچھ کمپنیاں اپنی ویب سائٹوں پرمفت رسائل پیش کرتی ہیں تا کہ ان کی ویب سائٹ کوترویج حاصل ہوسکے ۔
یوم محبت ( ویلنٹائن ڈے ) بہت سے اسلامی اورعرب ممالک میں بھی منتقل ہوچکا ہے ، بلکہ اسلام کے وطن ( جزیرہ عربیہ ) میں بھی پہنچ چکا ہے اورایسے معاشروں میں اس کی جڑیں پہنچ چکی ہیں جن کےبارہ میں ہم خیال کرتے تھے کہ وہ اس گنداورخرابی سے دور ہے ، حتی کہ اس دن سرخ گلاب کے پھول کی قیمت جنونی حد تک بڑھ جاتی ہے اورایک پھول کی قیمت دس ڈالرتک جا پہنچتی ہے حالانکہ اس کی قیمت کبھی بھی 1.4 ڈالر سے زيادہ نہیں ہوئي تھی ، اورتحفے تحائف اورکارڈوں کی دوکانیں اس موقع پرکمپیٹیشن یعنی باہم مقابلہ کی صورت اختیارکرلیتی ہیں اورایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کرکارڈوں کواس مناسبت سے بہتر چھاپنے کی کوشش کرتے ہیں ، اوربعض خاندان اورگھروں والے تواس دن اپنےگھروں کی کھڑکیوں میں سرخ گلاب لٹکاتے ہیں ۔
اوربعض خلیجی ممالک میں توبہت سے تجارتی مراکز اورکمپنیاں اور ہوٹل یوم محبت کے موقع پرخاص محفلیں سجاتے ہیں ، اوراکثر دوکانیں اورتجارتی مراکزتوسرخ لباس میں ڈوبے ہوتے ہیں اورایک اعلی فائیوسٹارخلیجی ہوٹل میں توسرخ غبارے ، اورکھیل اورگڑیاں پیھل چکی ہیں اوروہ یوم محبت کی عادات کے مطابق چلنا شروع ہوچکا ہے ، اوراس ہوٹل میں بت پرستی کے قصے کیوبڈ جسے رومی قصوں میں محبت کا بت مانا جاتا ہے کا ڈرامہ بنایا جاتا ہے جوتقریبابےلباس اوراس کے ہاتھ میں تیرکمان پکڑاہوا ہے ، اوراس ڈرامے میں فنکارحاضرہونے والے لوگوں میں سے اس وصف کے ( مسزویلنٹائن اورمسٹر ویلنٹائن )  کوچنتا ہے ۔
کویت میں یوم محبت کی سب سے عجیب چيز یہ تھی کہ ایک دوکاندار نے فرانسیسی زندہ خرگوش منگوائے جوبالکل چھوٹے اورسرخ آنکھوں والے ہوتے ہیں اوران کے گلے میں پٹا ڈال کرایک چھوٹے سے ڈبہ میں رکھا تا کہ یہ بطورھدیہ پیش کیے جاسکیں !!
لھذا اس کے خلاف ہرقسم کے وسائل استعمال کرتے ہوئے لڑنا واجب ہے اوراس کی مسؤلیت سب کے کندھوں پرہے کسی ایک پرنہیں ۔
چہارم : یوم محبت کی مبارکباد کا تبادلہ نہيں کرنا چاہیے اس لیے کہ نہ تویہ مسلمانوں کا تہوار ہے اورنہ ہی عید ، اوراگر کوئي مسلمان کسی کواس کی مبارکباد بھی دے تواسے جوابامبارکباد بھی نہيں دینی چاہیے ۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں : ( اورکفارکےخصوصی شعارجوصرف ان کے ساتھ ہی خاص ہیں ان کی مبارکباد دینا متفقہ طور پرحرام ہے ، مثلا انہیں ان کے تہواروں یا روزے کی مبارکباد دیتے ہوئے یہ کہا جائے : آپ کوعید مبارک ، یا آپ کواس تہوار کی مبارک ، لھذا اگراسے کہنے والا کفر سے بچ جائے توپھر بھی یہ حرام کردہ اشیاء میں سے توہے ہی ، اوریہ اسی طرح ہے کہ صلیب کوسجدہ کرنے والے کسی شخص کومبارکباد دی جائے ۔
بلکہ یہ اللہ تعالی کے ہاں تواورشراب نوشی اوربے گناہ شخص کوقتل اورزنا کرنے سے بھی زيادہ عظیم اورزيادہ ناراض کرنے والی ہے ، اوربہت سے ایسے لوگ جن کے ہاں دین کی کوئي قدروقیمت نہيں وہ اس میں پڑ جاتے ہیں اورانہيں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنا بڑا قبیح کام کرلیا ہے ، لھذا جس نے بھی کسی بندے کومعصیت اورنافرمانی یا بدعت اورکفر پرمبارکباد دی اس نے اپنے آپ کواللہ تعالی کے غصہ اورناراضگی پرپیش کردیا ) دیکھیں : احکام اھل الذمۃ  ( 1 / 441 - 442 ) ۔
پنجم : اس اورکفارکے اسی طرح کے دوسرے تہواروں کی سادہ اورعام مسلمانوں کے لیے وضاحت اوربیان کرنا واجب ہے ، اوریہ بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان شخص کواپنے عقیدے اوردین کی حفاظت کےلیے ایسے معاملات کی تمیزکرنی چاہے جواس کے دین اورعقیدہ میں مخل ہوں ، اسی میں امت کی نصیحت اوربہتری وبھلائي اورامربالمعروف اورنہی عن المنکرجیسے واجب کی ادائيگي ہے ۔
یوم محبت کے بارہ میں مسلمان علمائے کرام کے فتاوی جات :
فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح عثیمن رحمہ اللہ تعالی کا فتوی :
سوال : ؟
کچھ عرصہ سے یوم محبت کا تہوار منایا جانے لگا ہے  اورخاص کرطالبات میں اس کااہتمام زيادہ ہوتا ہے  جونصاری کے تہواروں میں سے ایک تہوارہے ، اس دن پورالباس ہی سرخ پہنا جاتا ہے اورجوتے تک سرخ ہوتے ہیں ، اورآپس میں سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔۔۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے تہوارمنانے کا حکم بیان کریں ، اوراس طرح کے معاملات میں آپ مسلمانوں کوکیا نصیحت کرتے ہیں ؟ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے ۔
اس کے جواب میں شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
یوم محبت کا تہوارکئي ایک وجوھات کی بنا پرمنانا جائز نہيں :
اول : اس لیے کہ یہ تہواربدعت  ہے اورشریعت میں اس کی کوئي دلیل اوراصل نہيں ملتی ۔
دوم : یہ تہوار دل کواس طرح کےگرے پڑے امور میں مشغول کرتا ہے جوسلف صالحین رضي اللہ تعالی عنہم کے طریقہ کے مخالف ہے ، لھذا اس دن اس تہوار کی کوئي علامت اورشعار ظاہرکرنا حلال نہيں چاہے وہ کھانے پینے میں ہو یا لباس اورتحفے تحائف کے تبادلہ کی شکل میں یا اس طرح کسی اورشکل میں ہو ، اورمسلمان شخص کوچاہیے کہ وہ اپنے دین کوہی عزیز سمجھے اورایسا شخص نہ بنے کہ ہرکائيں کائيں کرنے والے کے پیچھے ہی نہ چلنا شروع کردے ، میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مسلمانوں کوہرقسم کے ظاہری اورباطنی فتنوں سے محفوظ رکھے ، اورہمیں اپنی ولایت میں لے اورتوفیق سے نوازے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔
شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن بن جبرین حفظہ اللہ کا اس تہوار کے منانے کے بارہ میں فتوی :
فضیلۃ الشیخ سے مندرجہ ذيل سوال کیا گیا :
ہمارے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں کے درمیان کچھ عرصہ سے یوم محبت ( ویلنٹائن ڈے ) کے نام سے ایک تہوارمنانا چل نکلا ہے ، جوایک عیسائي بشپ کانام ہے اورعیسائی اس کی تعظیم کرتے ہوئے ہرسال چودہ فروری کواس کا تہوار مناتے ہیں ، لھذا اس تہوارکے منانے یا اس دن تحفے تحائف کے تبادلوں اوراس تہوارکوظاہرکرنے کا حکم کیا ہے ؟ اللہ تعالی آپ کوجزائے خیرسے نوازے
شيخ حفظہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
اول : اس میں کفارکی مشابھت اوران کی تعظیم کرنے والی اشیاء میں ان کی تقلید میں تعظیم کرنا اوران کے تہواروں اورعیدوں میں ان سے مشابھت ہے جوکہ ان کے دین میں شامل ہے اورحدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( جو کوئي بھی کسی قوم سے مشابھت اختیارکرتا ہے وہ انہيں میں سے ہے )
سوم : اس کی وجہ سے بہت سارے فساد اورممنوعات مرتب ہوتے ہیں جن میں لھوولعب اوررقص وسرور اورموسیقی اورشروفساد اوراکڑ وبے پردگی وبے حیائي اورمردوعورت کا آپس میں میل جول اوراختلاط یا پھر عورتوں کا غیرمحرم مردوں کے سامنے نلکنا اوراس کے علاوہ بہت سارے حرام کام مرتب ہوتے ہیں ، یاپھر ایسے کام جوبے حیائي اورفحاشی کا وسیلہ اوراس کی ابتداء میں شامل ہونے والے کام بھی اسی سے مرتب ہوتے ہیں ، اسے بےغمی اورآسودگی وخوشحالی جیسی چھوٹی تعلیل سے اس کا جواز پیدانہيں ہوجاتا ، اورجواسے تحفظ سمجھتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں ،لھذا نصیحت کرنے والے نفس کوچاہیے کہ وہ گناہ اوراس کے وسائل سے بھی دور رہے ۔
تواس بنا پرجب یہ معلوم ہوجائے کہ خریدار یہ تحفے تحائف اورگلاب کے پھول ان تہواروں اورعیدوں کےلیے خرید رہا ہے اوراسے ھدیہ میں دے گا یا ان کے ساتھ وہ اس دن کی تعظیم کرے گا تویہ اشیاء فروخت کرنا بھی جائز نہيں ، تا کہ فروخت کرنے والا بھی اس بدعتی اورحرام کام میں شریک نہ ہوجائے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ اھـ
مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) کا فتوی ہے :
مستقل فتوی کمیٹی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :
بعض لوگ ہر سال چود فروری یوم محبت ( ویلنٹائن ڈے ) کا تہوار مناتے ہیں ، اوراس دن آپس میں ایک دوسرے کوسرخ گلاب کے پھول ھدیہ میں دیتے ہیں اورسرخ رنگ کا لباس پہنتے ہیں ، اوران میں سے بعض ایک دوسرے کومبارکباد بھی دیتے ہیں ، اوربعض مٹھائي کی دوکانوں والے سرخ رنگ کی مٹھائي بھی تیار کرتے اوراس پردل کا نشان بناتے ہیں ، اوربعض دوکاندار اپنے مال پراس دن خصوصی اعلانات بھی چسپاں کرتے ہیں ، تواس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے ؟
کمیٹی کا جواب تھا :
مسلمان پراس تہوار یا اس طرح کے کسی اورحرام تہوار میں اعانت کرنا حرام ہے وہ تعاون کسی بھی طریقہ سے ہوچاہے کھانے پینے یا خریدوفروخت یا کوئي چيزتیارکرکے یا ھدیہ اورتحفہ دے کریا خط وکتاب کرکے یا اعلان کے ذریعہ ہویہ سب کچھ گناہ اوراللہ تعالی اوراس کے رسول کی معصیت ونافرمانی میں تعاون کے زمرہ میں آتا ہے ، اوراللہ سبحانہ وتعالی تویہ فرمارہا ہے :
{ اورنیکی اوربھلائي کےکاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہا کرو ، لیکن گناہ اوردشمنی میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کیا کرویقینا اللہ تعالی شدید سزا دینے والا ہے } ۔
اورمسلمان کےلیے ہرحالت میں کتاب وسنت پرعمل کرنا واجب ہے اورخاص کر فتنہ وفسادکے اوقات میں تواسے اس کا زيادہ اہتمام کرنا چاہیے ، اورمسلمان کوچاہیے کہ وہ ذہین وچالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گمراہی اورناراضگی کے کاموں سے بچ کررہے اورنہ ہی وہ فاسقوں اورگمراہ اورجن پراللہ تعالی کا غضب نازل ہوا ان لوگوں کے طریقہ پرچلے جنہیں اللہ تعالی کے وقار کا خیال ہی نہيں ، اورنہ ہی وہ اسلام قبول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
مسلمان شخص کوچاہیے کہ وہ ھدایت وراہنمائی کے لیے اللہ تعالی ہی سےالتجا کرے اوردین اسلام پرثابت قدم رہنے کی دعا کرتا رہے ، کیونکہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي بھی ھدایت نصیب کرنے والا نہيں اورنہ ہی اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ کوئي اوردین اسلام پرثابت قدم رکھنے والا ہے ۔
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والاہے ،اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔
اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء سعودی عرب ۔
آخر میں ہم اپنے بھائیوں کومندرجہ ذیل نصیحت کرتے ہيں :
1 -  مساجد کے خطباء حضرات کوتنبیہ پرابھارا جائے اورانہيں چاہیے کہ وہ لوگوں کواس سے بچنے کی تلقین کریں ، اورامام مسجد کوبھی اس موضوع کی وضاحت کریں اوراس کےساتھ ساتھ اس تہوار کے قریب آنے پراسے مستقل فتوی کمیٹی کافتوی اورشیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے فتوی کی کاپی بھی دی جائے تا کہ لوگوں کواس کی وضاحت ہوسکے ، اورہرشخص کواپنی مسجد کے امام تک اس خبر کوپہنچانے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے ، اوریہ یقینی بات ہے کہ جب ہماری مساجد کے امام وخطیب حضرات بھائي یہ فتوی اورمقالہ پڑھ کرسنائيں گے تووہ لوگوں کوبتانے سے بری الذمہ ہوجائيں گے ۔
2 -  ہراستاد اوراستانی کے ذمہ یہ امانت ہے کہ وہ اس تہوار کی صورت کواپنے شاگردوں کے سامنے وضاحت سے بیان کرے کیونکہ یہ لوگ کل اللہ تعالی کوجواب دہ ہونگے اس لیے انہيں چاہیے کہ وہ مستقل فتوی کمیٹی کے فتوی کے ذریعہ اس کی حرمت بیان کریں اوریہ سب کچھ اس تہوار کے آنے سے تقریباایک ہفتہ قبل ہونا ضروری ہے تا کہ لوگ اس سے مسفید ہوسکیں ۔
3 -  امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے اداروں اوراہل حسبہ ( یعنی برائي کا مواخذہ کرنے والے ادارہ کے لوگوں ) کوایسی دوکانوں اورجگہوں کے متعلق بتایا جائے جواس تہوارکے لیے تحفے تحائف فروخت کرتے ہيں یا ایسی تصویریں رکھتے ہیں جس میں تحفے کی شکل اوراسے پیک کرنے کا طریقہ وغیرہ بتایا گيا ہے ۔
4 -  اسی طرح ہرانسان کواپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اسےاپنے گھرمیں بھی پورا کرنا چاہیے لھذا جس کسی کی کوئي بہن یا بھائي پڑھاتے ہیں انہيں چاہیے کہ وہ اسے اس معاملہ کے بارہ میں آگاہ کرے ، کیونکہ بہت سارے لوگ اس تہوار کی ماہیت وشکل سے جاہل ہیں ۔
ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ مسلمانوں کی ہرگمراہی اورفتنہ وفساد سے حفاظت فرمائے ، اورانہیں ان کے نفسوں کے شرسے اوران کے دشمنوں کی چالوں اورمکروں سے بچاکررکھے ، یقینا اللہ سبحانہ وتعالی سننے والا اورقبول کرنے والا ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندے اوررسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتیں برسائے اوربرکت عطا فرمائے ۔


 Above artical is taken from webside http://islamqa.info/ur/search

No comments: